Taleemi Wazaif Amount — کلاس کے حساب سے وظیفہ کتنا ملتا ہے؟ مکمل جدول 2026
بینظیر کفالت کی مستحق ماؤں کے لیے بچوں کی تعلیم کا خرچ اکثر سب سے بڑا بوجھ ہوتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے Benazir Taleemi Wazaif پروگرام (جسے وسیلہ تعلیم / Waseela e Taleem بھی کہا جاتا ہے) کے تحت اسکول جانے والے ہر بچے کو سہ ماہی وظیفہ دیا جاتا ہے۔ والدین کا سب سے عام سوال یہی ہوتا ہے کہ taleemi wazaif amount کلاس کے حساب سے کتنا ہے اور کن شرائط پر ملتا ہے۔ اس مکمل رہنمائی میں سرکاری طور پر رپورٹ شدہ وظیفے کی جدول، حاضری کی شرط، لڑکیوں کا خصوصی بونس اور رجسٹریشن کا طریقہ تفصیل سے دیا گیا ہے۔
وظیفے کی مکمل جدول (فی بچہ، فی سہ ماہی)
| تعلیمی درجہ | کلاس | لڑکا (روپے) | لڑکی (روپے) |
|---|---|---|---|
| پرائمری | 1 تا 5 | 2,500 | 3,000 |
| سیکنڈری | 6 تا 10 | 3,500 | 4,000 |
| ہائر سیکنڈری | 11 تا 12 | 4,500 | 5,000 |
یہ رقم فی بچہ ہے — اگر ایک ہی خاندان کے تین بچے اسکول میں ہیں تو تینوں کا وظیفہ الگ الگ ملتا ہے اور والدہ کی کفالت قسط کے ساتھ ادا ہوتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فروری 2026 میں فی طالب علم وظیفے میں 500 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ شرحیں نافذ ہیں۔ چونکہ بعض پرانے ذرائع میں اس سے کم رقمیں درج ہیں، اس لیے تازہ ترین تصدیق کے لیے ہمیشہ BISP کی سرکاری معلومات یا 8171 کو ہی حتمی مانیں اور کسی بھی تبدیلی کی خبر صرف سرکاری چینل سے قبول کریں۔
لڑکیوں کو زیادہ رقم اور گریجویشن بونس کیوں؟
پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم پرائمری کے بعد تیزی سے کم ہو جاتی ہے، اسی رجحان کو روکنے کے لیے BISP نے جان بوجھ کر ہر درجے میں لڑکیوں کا وظیفہ لڑکوں سے 500 روپے زیادہ رکھا ہے۔ اس کے علاوہ جو لڑکی پرائمری تعلیم (کلاس 5) کامیابی سے مکمل کرتی ہے، اسے حوصلہ افزائی کے طور پر ایک مرتبہ 3,000 روپے کا گریجویشن بونس دیا جاتا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ والدین کے لیے بیٹی کو اسکول بھیجنا مالی بوجھ کے بجائے فائدہ بن جائے اور وہ کم از کم میٹرک تک تعلیم مکمل کرے۔
70 فیصد حاضری کی شرط — سب سے اہم اصول
وظیفہ لینا اتنا آسان نہیں کہ صرف داخلہ کافی ہو؛ ہر سہ ماہی میں بچے کی اسکول حاضری کم از کم 70 فیصد ہونا لازمی ہے۔ اسکول سے حاضری کی تصدیق کے بعد ہی اس سہ ماہی کا وظیفہ جاری ہوتا ہے۔ اگر حاضری 70 فیصد سے کم رہ جائے تو اس سہ ماہی کا وظیفہ رک جاتا ہے، اور بار بار ایسا ہونے پر بچہ پروگرام سے خارج بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے بچوں کی غیر ضروری چھٹیاں کم کریں، بیماری یا مجبوری کی صورت میں اسکول کو آگاہ رکھیں، اور ہر سہ ماہی حاضری کا ریکارڈ خود بھی دیکھتی رہیں۔ یاد رکھیں کہ وظیفہ صرف ان بچوں کے لیے ہے جو باقاعدگی سے کسی تسلیم شدہ اسکول یا کالج میں پڑھ رہے ہوں۔
اہلیت کی شرائط — Taleemi Wazaif Eligibility
| شرط | تفصیل |
|---|---|
| والدہ کی حیثیت | بینظیر کفالت کی فعال (active) مستحق ہو |
| بچے کی عمر | 4 تا 22 سال |
| کلاس | کلاس 1 سے 12 تک، باقاعدہ داخلہ |
| حاضری | ہر سہ ماہی کم از کم 70 فیصد |
| دستاویزات | بچے کا بے فارم (B-Form) اور والدہ کا CNIC |
رجسٹریشن اور Taleemi Wazaif Check کرنے کا طریقہ
اگر آپ کا بچہ ابھی پروگرام میں شامل نہیں — یعنی taleemi wazaif registration ابھی نہیں ہوئی — تو قریبی BISP تحصیل دفتر جائیں، بچے کا بے فارم اور اپنا CNIC ساتھ لے جائیں اور تعلیمی وظائف میں اندراج کی درخواست دیں — رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہے اور کسی آن لائن فارم یا ایجنٹ کی ضرورت نہیں۔ بچے کے اسکول سے بھی تصدیق کر لی جاتی ہے۔ وظیفے کی ادائیگی عام طور پر والدہ کی کفالت قسط کے ساتھ آتی ہے؛ اپنا اسٹیٹس جاننے کے لیے CNIC نمبر 8171 پر SMS کریں یا 8171.bisp.gov.pk پر چیک کریں، اور کسی مسئلے کی صورت میں ہیلپ لائن 0800-26477 پر رابطہ کریں۔ اگر بچہ اگلی کلاس میں چلا جائے تو درجہ خود اگلی شرح پر منتقل ہو جاتا ہے، تاہم اسکول تبدیل ہونے کی صورت میں تحصیل دفتر کو مطلع ضرور کریں تاکہ حاضری کی تصدیق میں رکاوٹ نہ آئے۔
دھوکے سے بچیں — یہ باتیں ہمیشہ یاد رکھیں
تعلیمی وظائف کی رجسٹریشن اور ادائیگی دونوں مفت ہیں۔ کوئی شخص فارم بھرنے، اندراج کروانے یا وظیفہ جاری کروانے کی فیس مانگے تو وہ فراڈ ہے۔ بچوں کے بے فارم اور CNIC کی کاپیاں صرف BISP دفتر یا متعلقہ اسکول کو دیں، کسی اجنبی یا موبائل شاپ والے کو نہ دیں۔ سرکاری پیغامات صرف 8171 سے آتے ہیں؛ جعلی پیغامات میں آنے والے لنکس ہرگز نہ کھولیں۔ کسی بھی شکایت کے لیے BISP تحصیل دفتر یا ہیلپ لائن 0800-26477 ہی درست راستہ ہے۔
خلاصہ
خلاصہ یہ ہے کہ taleemi wazaif amount کلاس اور جنس کے حساب سے فی سہ ماہی 2,500 سے 5,000 روپے تک ہے، لڑکیوں کو ہر درجے میں 500 روپے اضافی اور پرائمری مکمل کرنے پر 3,000 روپے کا ایک مرتبہ بونس ملتا ہے۔ شرط صرف دو ہیں: والدہ فعال کفالت مستحق ہو اور بچے کی حاضری 70 فیصد سے کم نہ ہو۔ ان دو باتوں کا خیال رکھیں تو آپ کے بچوں کی تعلیم کا یہ سہارا بلا تعطل جاری رہے گا۔
Source: arynews.tv


