Ye ek gher-sarkari maloomati website hai. Official portal: 8171.bisp.gov.pk
Punjab Schemes 03 Nov 2026 · 3 views

Kisan Card Phase 2: کسان کارڈ فیز ٹو — حد تین لاکھ تک، پچیس ایکڑ تک اہلیت اور پرانے کارڈ ہولڈرز کے لیے ہدایات

Kisan Card Phase 2: کسان کارڈ فیز ٹو — حد تین لاکھ تک، پچیس ایکڑ تک اہلیت اور پرانے کارڈ ہولڈرز کے لیے ہدایات
فوری جواب: kisan card phase 2 میں حکومتِ پنجاب نے بلاسود موسمی قرض کی حد فیز 1 کے ڈیڑھ لاکھ روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے فی سیزن کرنے کا اعلان کیا، جبکہ محکمہ زراعت کے فیز 2 پوسٹر کے مطابق حساب تیس ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے زیادہ سے زیادہ تین لاکھ ساٹھ ہزار روپے تک بنتا ہے۔ زمین کی اہلیت ساڑھے بارہ ایکڑ سے بڑھا کر پچیس ایکڑ کر دی گئی اور تیس فیصد رقم نقد لینے کی سہولت بھی بتائی گئی ہے۔ رجسٹریشن کا طریقہ وہی ہے: اپنے نام پر رجسٹرڈ سم سے PKC لکھ کر سپیس کے بعد CNIC نمبر 8070 پر بھیجیں۔ فیز 1 کے کارڈ ہولڈرز کے لیے اگلے راؤنڈ کی شرط پچھلے قرض کی وقت پر مکمل ادائیگی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کسان کارڈ (CM Punjab Kisan Card) بینک آف پنجاب کے ذریعے کسانوں کو بیج، کھاد اور دیگر زرعی مداخل کے لیے بلاسود قرض دیتا ہے۔ فیز 2 میں اس کے دائرے اور حد دونوں میں توسیع کی اطلاعات ہیں۔ اس مضمون میں ہم تصدیق شدہ معلومات کے ساتھ بتائیں گے کہ کیا بدلا، کون اہل ہے اور پرانے کارڈ ہولڈرز کو کیا کرنا چاہیے۔

فیز 1 اور فیز 2 میں فرق

خصوصیتفیز 1 (آغاز)فیز 2 (رپورٹ شدہ)
قرض فی ایکڑ30,000 روپے30,000 روپے
زیادہ سے زیادہ حد1,50,000 روپے فی سیزن3,00,000 روپے (سرکاری اعلان)؛ محکمے کے پوسٹر پر 3,60,000 روپے تک
زمین کی اہلیت1 سے 12.5 ایکڑ1 سے 25 ایکڑ
نقد رقم کی سہولتنہیں30 فیصد تک (پوسٹر کے مطابق)
پروسیسنگ فیسلاگو تھیختم کرنے کی اطلاعات
رجسٹریشنSMS 8070SMS 8070 (وہی طریقہ)

کون اہل ہے؟ — Kisan Card Registration کیسے ہوتی ہے؟

اہلیت کی بنیادی شرائط یہ ہیں: کسان پنجاب کا رہائشی ہو، اس کی زمین کا ریکارڈ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) میں اس کے نام پر درج ہو، موبائل سم اسی کے CNIC پر رجسٹرڈ اور تصدیق شدہ ہو، اور وہ کسی بینک کا ڈیفالٹر نہ ہو۔ رجسٹریشن کے لیے اپنے موبائل سے PKC لکھیں، سپیس دیں، اپنا CNIC نمبر (بغیر ڈیش کے) لکھ کر 8070 پر بھیجیں۔ تصدیق مکمل ہونے کے بعد کارڈ بینک آف پنجاب کی متعلقہ برانچ سے ملتا ہے۔ اپنی درست kisan card limit کا تعین تصدیق شدہ رقبے کے حساب سے ہوتا ہے، اس لیے حتمی رقم برانچ سے ضرور تصدیق کریں۔

فیز 1 کے کارڈ ہولڈرز کے لیے ضروری باتیں

اگر آپ کے پاس پہلے سے کسان کارڈ ہے تو یہ باتیں خاص طور پر آپ کے لیے ہیں۔ پہلی بات: یہ قرض موسمی ہے، اس لیے ہر راؤنڈ کا قرض مقررہ مدت میں واپس کرنا اگلے راؤنڈ کی بنیادی شرط ہے؛ ادائیگی میں تاخیر یا ڈیفالٹ اگلی سہولت روک سکتا ہے اور آئندہ اہلیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ دوسری بات: رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2026 میں چوتھے راؤنڈ کی ادائیگی کی مہلت مقرر تھی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نظام مسلسل راؤنڈز میں چل رہا ہے — اپنی ادائیگی کی رسیدیں محفوظ رکھیں۔ تیسری بات: فیز 2 کی بڑھی ہوئی حد خودبخود ہر پرانے کارڈ پر لاگو سمجھنے کے بجائے بینک آف پنجاب کی برانچ یا محکمہ زراعت کے دفتر سے اپنی موجودہ حد کی تصدیق کر لیں، کیونکہ نئی حد کا اطلاق تصدیق شدہ رقبے اور ادائیگی کے ریکارڈ سے جڑا ہے۔

قرض کن چیزوں پر استعمال ہو سکتا ہے؟

یہ رقم بنیادی طور پر رجسٹرڈ ڈیلرز سے بیج، کھاد اور منظور شدہ زرعی مداخل خریدنے کے لیے ہے۔ فیز 2 کے پوسٹر کے مطابق تیس فیصد حصہ نقد بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ذاتی اخراجات یا غیر زرعی استعمال پروگرام کے اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے اگلی سہولت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ سود حکومت ادا کرتی ہے، اصل رقم کسان کو واپس کرنا ہوتی ہے۔

فراڈ سے بچاؤ

kisan card apply کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے: kisan card phase 2 کی رجسٹریشن صرف 8070 پر سرکاری SMS اور بینک آف پنجاب کے ذریعے ہوتی ہے۔ کوئی ایجنٹ آپ کی حد نہیں بڑھا سکتا اور نہ رجسٹریشن کی کوئی فیس ہے۔ جو لوگ پیسے لے کر کارڈ یا حد دلانے کا وعدہ کریں، ان سے بچیں۔ اپنا CNIC نمبر اور موبائل OTP کسی غیر متعلقہ شخص کو نہ دیں، اور معلومات صرف محکمہ زراعت پنجاب اور بینک آف پنجاب کے سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔

خلاصہ

خلاصہ یہ ہے کہ فیز 2 میں کسان کارڈ کا دائرہ پچیس ایکڑ تک پھیلا اور حد تین لاکھ روپے (پوسٹر کے حساب سے تین لاکھ ساٹھ ہزار تک) بتائی جا رہی ہے۔ نئے کسان 8070 پر SMS سے رجسٹر ہوں، اور فیز 1 کے ہولڈرز پچھلے قرض کی وقت پر ادائیگی کو سب سے اہم کام سمجھیں، کیونکہ اگلا راؤنڈ اسی سے جڑا ہے۔

Note: Ye maloomat sirf rehnumai ke liye hai. Ye website sarkari nahi hai — hatmi tasdeeq ke liye official 8171 portal ya qareebi BISP daftar se rujoo karein.
Source: which.pk