گرین ٹریکٹر اسکیم: Green Tractor Scheme میں 10 لاکھ روپے تک سبسڈی — اہلیت اور مکمل تفصیل
پنجاب کے کسانوں کے لیے بڑی سہولت یہ ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی Green Tractor Scheme کے تحت مقامی ساختہ نئے ٹریکٹر پر حکومت بھاری سبسڈی دیتی ہے اور باقی رقم کسان ادا کرتا ہے۔ انتخاب کسی سفارش سے نہیں بلکہ شفاف کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی (digital balloting) سے ہوتا ہے، اور زمین کے ریکارڈ کی تصدیق پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (PLRA) اور نادرا سے کی جاتی ہے۔ تازہ مرحلوں — فیز 4 اور فیز 5 — میں مجموعی طور پر 19,500 ٹریکٹر رکھے گئے ہیں۔
اہم معلومات ایک نظر میں
| مرحلہ | ٹریکٹر | ہارس پاور | سبسڈی فی ٹریکٹر | کم از کم زمین |
|---|---|---|---|---|
| فیز 4 (Low Power) | 10,000 | 50–65 HP | 7,50,000 روپے | 5 ایکڑ |
| فیز 5 (Hi Power) | 9,500 | 75–125 HP | 10,00,000 روپے | 7 ایکڑ |
| انتخاب | کمپیوٹرائزڈ ڈیجیٹل قرعہ اندازی — PLRA اور نادرا سے تصدیق کے بعد | |||
| سرکاری پورٹل | gts.punjab.gov.pk | |||
| ہیلپ لائن | 0800-17000 (محکمہ زراعت پنجاب) | |||
سبسڈی کیسے کام کرتی ہے؟ — Tractor Subsidy Punjab کی وضاحت
اس اسکیم میں حکومت ٹریکٹر کی قیمت کا ایک مقررہ حصہ بطور سبسڈی خود ادا کرتی ہے — یہ رقم ٹریکٹر کی ex-factory قیمت سے کم ہو جاتی ہے اور باقی رقم کسان کو ادا کرنی ہوتی ہے۔ صرف منظور شدہ مقامی مینوفیکچررز کے ٹریکٹر اس اسکیم میں شامل ہیں، جن میں Millat (Massey Ferguson) اور Al-Ghazi (New Holland) سمیت مقامی کمپنیاں شامل ہیں۔ فیز 4 کی ڈیجیٹل قرعہ اندازی 23 ستمبر 2026 کو ہوئی اور اسی green tractor scheme balloting result نے کسانوں کی توجہ حاصل کی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس پروگرام کے لیے دو لاکھ تیرہ ہزار سے زائد کسانوں نے درخواستیں دیں، جن میں سے تصدیق کے بعد 1,28,757 کسان قرعہ اندازی کے لیے اہل قرار پائے — یعنی مقابلہ خاصا سخت ہے۔
اہلیت کی شرائط
- درخواست گزار پنجاب کا مستقل رہائشی ہو اور درست کمپیوٹرائزڈ CNIC رکھتا ہو۔
- اس کے نام پر رجسٹرڈ زرعی زمین ہو — فیز 4 کے لیے کم از کم 5 ایکڑ، فیز 5 کے لیے کم از کم 7 ایکڑ۔ زمین کی تصدیق PLRA ریکارڈ سے ہوتی ہے۔
- عموماً ایک خاندان کے لیے ایک ہی ٹریکٹر کی شرط لاگو ہوتی ہے اور کسان کارڈ رکھنے والوں کو ترجیحی بنیاد پر شامل کیا جاتا ہے۔
- کرایہ دار کسان اور بٹائی دار عموماً اہل نہیں ہوتے — صرف زمین کے رجسٹرڈ مالک ہی درخواست دے سکتے ہیں۔
- کسی بینک قرضے کا ڈیفالٹر نہ ہو؛ پہلے کسی اسی نوعیت کی ٹریکٹر سبسڈی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں پر پابندی لگ سکتی ہے۔
درخواست کیسے دی جاتی ہے؟ — Green Tractor Scheme Apply کا طریقہ
جب نیا مرحلہ کھلتا ہے تو درخواست سرکاری پورٹل gts.punjab.gov.pk پر آن لائن دی جاتی ہے: CNIC اور زمین کی تفصیلات درج کریں، تصدیق PLRA اور نادرا کے ریکارڈ سے خودکار طریقے سے ہوتی ہے، اور پھر اہل کسانوں میں ڈیجیٹل قرعہ اندازی ہوتی ہے۔ منتخب ہونے والے کسان کو مقررہ مدت کے اندر اپنا مالی حصہ جمع کروا کر آفر لیٹر حاصل کرنا ہوتا ہے — مدت گزر جائے تو الاٹمنٹ خود بخود منسوخ ہو جاتی ہے، اس لیے قرعہ اندازی کے بعد پورٹل باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ فیز 4 اور فیز 5 دونوں کی درخواستوں کی مدت ختم ہو چکی ہے؛ اگلے مرحلے کا اعلان سرکاری پورٹل اور محکمہ زراعت کی ویب سائٹ پر ہوگا۔
دھوکے سے بچیں
- درخواست صرف سرکاری پورٹل gts.punjab.gov.pk سے دیں — کسی ایجنٹ کو پیسے یا دستاویزات نہ دیں۔
- قرعہ اندازی مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہے — نام "نکلوا" دینے کا وعدہ کرنے والا دھوکے باز ہے۔
- درخواست کی کوئی سرکاری فیس ایجنٹوں کے ذریعے نہیں لی جاتی؛ کسی بھی ادائیگی سے پہلے ہیلپ لائن 0800-17000 سے تصدیق کریں۔
- اپنا CNIC نمبر اور زمین کے کاغذات کی نقول غیر متعلقہ افراد کو نہ دیں۔
خلاصہ
مختصراً: Green Tractor Scheme میں پنجاب حکومت چھوٹے و درمیانے کسانوں کو نئے مقامی ٹریکٹر پر سات لاکھ پچاس ہزار سے دس لاکھ روپے تک سبسڈی دیتی ہے، انتخاب PLRA و نادرا تصدیق کے بعد ڈیجیٹل قرعہ اندازی سے ہوتا ہے۔ دونوں تازہ مرحلوں کی درخواستیں بند ہو چکی ہیں — جن کسانوں نے درخواست دی تھی وہ اپنا نتیجہ سرکاری پورٹل پر دیکھیں، اور باقی کسان اگلے مرحلے کے اعلان کا انتظار کریں۔ ہم اسی صفحے کو نئی معلومات آتے ہی اپ ڈیٹ کریں گے۔
Source: zaratghar.com


