پنجاب E Taxi Scheme — الیکٹرک ٹیکسی آسان قسطوں پر: شرائط، ڈاؤن پیمنٹ اور درخواست کی مکمل تفصیل
پنجاب حکومت نے ملک کی پہلی سرکاری e taxi scheme شروع کر کے ڈرائیور حضرات کے لیے روزگار کا ایک نیا دروازہ کھولا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے 26 فروری 2026 کو لاہور میں اس اسکیم کا باقاعدہ افتتاح کیا اور منتخب ڈرائیوروں کو چابیاں بھی دیں۔ پہلے مرحلے میں 1,100 الیکٹرک ٹیکسیاں دی جا رہی ہیں، جن کا مقصد ایک طرف بے روزگار نوجوانوں اور خواتین کو اپنا روزگار دینا ہے اور دوسری طرف شہروں کی فضائی آلودگی کم کرنا ہے۔ یہ گاڑیاں رائیڈ ہیلنگ سروسز کے ذریعے چلیں گی، اس لیے یہ اسکیم ذاتی کار دینے کی اسکیم نہیں بلکہ باقاعدہ کمرشل روزگار کا منصوبہ ہے۔
اہم معلومات ایک نظر میں
| چیز | تفصیل |
|---|---|
| اسکیم کا نام | CM Punjab E-Taxi Scheme (پہلا مرحلہ) |
| افتتاح | 26 فروری 2026، لاہور |
| کل گاڑیاں | 1,100 الیکٹرک ٹیکسیاں |
| تقسیم | 700 فلیٹ مالکان، 400 انفرادی ڈرائیور (300 مرد، 100 خواتین) |
| ڈرائیور کا حصہ (ایکویٹی) | گاڑی کی قیمت کا 30 فیصد |
| حکومتی مدد | ایکویٹی میں مردوں کے لیے 50 فیصد، خواتین کے لیے 60 فیصد |
| قرض | بینک آف پنجاب، بغیر سود، 5 سال — فی گاڑی زیادہ سے زیادہ 65 لاکھ روپے تک فنانسنگ کی اطلاعات |
| رجسٹریشن و ٹوکن ٹیکس | حکومت ادا کرے گی |
| بیٹری و موٹر وارنٹی | 6 سال یا 3 لاکھ کلومیٹر |
| سرکاری پورٹل | e-taxi.punjab.gov.pk |
ڈاؤن پیمنٹ اور قسط کیسے کام کرتی ہے؟
اس e taxi scheme کا مالی ڈھانچہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ ڈرائیور پر ایک دم بڑا بوجھ نہ پڑے۔ خریدار کو گاڑی کی قیمت کا 30 فیصد بطور ایکویٹی جمع کروانا ہوتا ہے؛ اسی ایکویٹی میں حکومت مرد درخواست گزار کے لیے آدھا حصہ (50 فیصد) اور خاتون درخواست گزار کے لیے 60 فیصد ادا کرتی ہے۔ باقی رقم بینک آف پنجاب بغیر سود قرض کے طور پر دیتا ہے جو 5 سال میں ماہانہ قسطوں میں واپس کرنا ہوتا ہے، اور اطلاعات کے مطابق قسطوں کی تعداد 57 بنتی ہے۔ قرض مکمل ادا ہونے تک گاڑی بینک کے نام رہتی ہے۔ یاد رہے کہ حتمی قسط کی رقم گاڑی کے ماڈل اور بینک کی تصدیق پر منحصر ہوتی ہے — کسی غیر سرکاری ویب سائٹ کی بتائی ہوئی قسط کو حتمی نہ سمجھیں۔
E Taxi Scheme Eligibility — کون درخواست دے سکتا ہے؟
پہلے مرحلے کی شائع شدہ شرائط کے مطابق درخواست گزار کے لیے ضروری تھا کہ وہ پنجاب کا مستقل رہائشی ہو، اس کے پاس درست کمپیوٹرائزڈ ڈرائیونگ لائسنس ہو، درخواست کے وقت اس کی عمر کم از کم 21 سال ہو (اور قرض کی مدت پوری ہونے تک 60 سال کی حد کا خیال رکھا گیا)، اور وہ کسی بینک کا ڈیفالٹر نہ ہو۔ انفرادی ڈرائیور کے لیے کسی منظور شدہ رائیڈ ہیلنگ کمپنی کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا بھی شرط تھی، جبکہ فلیٹ مالکان کے لیے کم از کم 10 گاڑیاں لینا لازم تھا۔ اسی لیے اسکیم میں 66 ہزار سے زائد رجسٹریشنز آئیں جن میں سے 28 ہزار سے زائد درخواستیں مکمل قرار پائیں۔
درخواست کی موجودہ صورتحال — اہم بات
قارئین کی بڑی تعداد یہی سوال پوچھتی ہے کہ درخواست اب بھی کھلی ہے یا نہیں۔ شائع شدہ اطلاعات کے مطابق پہلے مرحلے کی رجسٹریشن کی آخری تاریخ گزر چکی ہے، قرعہ اندازی/انتخاب مکمل ہو چکا ہے اور افتتاح کے موقع پر گاڑیاں حوالے بھی کی جا چکی ہیں۔ اگلے مرحلے — e taxi scheme phase 2 — کا کوئی سرکاری اعلان ابھی تک نہیں ہوا — اس کی باقاعدہ تصدیق کا انتظار ہے۔ جیسے ہی نیا مرحلہ کھلے گا، اعلان سرکاری پورٹل اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذریعے ہوگا۔ ایک اور اہم بات: گاڑی صرف کمرشل استعمال کے لیے ہے — ذاتی استعمال کی شکایات پر گاڑی ضبط ہونے کی کارروائیوں کی خبریں بھی آ چکی ہیں، اس لیے شرائط کی پابندی ضروری ہے۔
دھوکے سے بچیں
ہر سرکاری اسکیم کے ساتھ جعلی ایجنٹ اور جعلی ویب سائٹس بھی سرگرم ہو جاتی ہیں۔ electric taxi scheme registration کے نام پر اپنا CNIC، لائسنس اور رقم کسی ایجنٹ، پرائیویٹ دفتر یا سوشل میڈیا پیج کے حوالے نہ کریں۔ حکومت اس اسکیم کی کوئی الگ فیس نہیں لیتی اور انتخاب کسی سفارش سے نہیں ہوتا۔ تصدیق اور درخواست صرف e-taxi.punjab.gov.pk اور محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب کے سرکاری ذرائع سے کریں، اور بینک سے متعلق سوال کے لیے صرف بینک آف پنجاب سے رابطہ کریں۔ جو شخص "سیٹ پکی" کرنے کے عوض پیسے مانگے، وہ دھوکا ہے۔
خلاصہ
مختصر یہ کہ e taxi scheme پنجاب کے ڈرائیوروں کے لیے حکومت کی ایک سنجیدہ کوشش ہے: 1,100 الیکٹرک ٹیکسیاں، ایکویٹی میں 50 تا 60 فیصد حکومتی مدد، اور 5 سال کا بغیر سود قرض۔ پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، اس لیے e taxi scheme apply کرنے کے خواہش مند حضرات اگلے مرحلے کے سرکاری اعلان کا انتظار کریں اور صرف سرکاری پورٹل پر نظر رکھیں۔
Source: www.dawn.com


